حالاتِ حاضرہ سے بغاوت
کہاں وہ دن جب ہرصبح کم از کم ایک گھنٹہ اخبار بینی پہ لگ جاتا تھا اور کہاں اب کی صورتحال کہ روزمرہ کی خبروں سے چِڑ آجاتی ہے۔ شاید ہمارا وقت گزرچکا ہے اور یہ آج کل کا وقت طبیعت پہ بوجھل سا محسوس ہوتا ہے۔ جو وجہ بھی ہے، دل اب یہ چاہتا ہے کہ جسے حالاتِ حاضرہ کہتے ہیں اُن سے دور ہی ر� [..]مزید پڑھیں