تبصرے تجزئیے

  • کیا ہم صحافی انسان بن سکتے ہیں؟

    سر باجوہ شاید یہ کہنا چاہتے تھے کہ اوئے صحافیو، ’بندے کے پتر بن جاؤ،‘ لیکن چونکہ قومی زبان میں نسبتاً شائستہ محاورہ موجود ہے تو انھوں نے صرف یہ فرمایا کہ اگر میڈیا والے انسان بن جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کون ہے جس نے زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ نہیں سنا کہ انسان بن جاؤ۔ ک� [..]مزید پڑھیں

  • کاوے موسوی کی معافی

    براڈ شیٹ موجودہ حکومت کی ناکامیوں میں سے ایک بڑی ناکامی ہے۔ جس کی مکمل تحقیقات نہیں ہو سکی ہیں۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ براڈ شیٹ کے معاملے کی انکوائری کے لیے جو کمیشن بنایا گیا، اس نے بھی شفاف تحقیقات کے بجائے اس پر مٹی ڈالنے اور اس کو ختم کرنے کی ہی کوشش کی۔ اسی لیے براڈ شی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اقتدارکی لڑائی اور عوامی مفاد کی سیاست

    پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں عام آدمی کے مقدمے کو سیاسی نعرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کی سیاست کی کنجی عوامی مفاد پر مبنی سیاست ہوتی ہے۔ سیاست اورجمہوریت کا یہ کھیل عوام کو طاقت دینے اورمعاشرے کو سیاسی و جمہوری بنیادوں [..]مزید پڑھیں

  • او آئی سی سمٹ اور اقتدار پرست کشمیری

    اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس سے بطور میزبان خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اوآئی سی کشمیر اور فلسطین پر ناکام ہو چکی ہے جبکہ پس پردہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر تقسیم کشمیر کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک  ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کی ن� [..]مزید پڑھیں

  • تحریکِ عدم اعتماد کی بھڑکائی ’آتش‘ کی تپش

    ہمارے تحریری آئین میں کسی وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس کے منصب سے ہٹانے کا جو طریقہ کار طے کردیا گیا ہے اس پر ہوبہو عمل ہوا ہوتا تو عمران خان صاحب کے مقدر کے بارے میں ہمارے ذہن اب تک صاف ہوچکے ہوتے۔ سپیکر اسد قیصر نے تاہم کامل ڈھٹائی سے قومی اسمبلی کا اجلاس 21مارچ � [..]مزید پڑھیں

  • ربڑ کی گیند!

    اس نے ایک ملے جلے ماحول میں آنکھ کھولی تھی۔ اس کے والد دین و دنیا دونوں سے نباہ کرتے تھے۔ ان کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی تاہم ان کے گھر میں نماز روزے کی بہت پابندی تھی۔ فجر کی اذان سے پہلے اس کے والد اس کے کمرے میں آتے اور بہت محبت بھرے ملائم لہجے میں کہتے ’اٹھو بیٹے نماز کا و� [..]مزید پڑھیں

  • اتنی نہ بڑہا پاکئی داماں کی حکایت....

    ہماری روائتی سوسائٹی میں جوجتنے زیادہ پارسائی و دیانتداری کے دعوے کرتا ہے، موقع ملنے پر وہی شخص سب سے زیادہ کرپٹ، بددیانت، دھوکے باز، جھوٹا، مکار، فراڈیا اور بات بے بات یوٹرن لینے والا ثابت ہوتا ہے۔ اسے اپنی عزت کا کوئی پاس ہوتا ہے اور نہ اپنے کہے کا کوئی لحاظ ’ منہ میں رام [..]مزید پڑھیں