تبصرے تجزئیے

  • عوام طاقت کی گردشوں میں محض غلام ہیں

    یہ ایک مہنگی خود فریبی ہو گی کہ اگر ہم اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کو وقتی غصے کے اظہار کے طور پر لیں یا یہ سمجھیں کہ ان کو مار پیٹ کرکے ہم نے مستقبل میں اس قسم کے ہنگامے کے راستے بند کر دیے ہیں۔ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو روزی روٹی کے چکر � [..]مزید پڑھیں

  • چراغ طور اور ملاوٹ ملا تیل

    لاہور کے آشفتہ مزاج شاعر ساغر صدیقی نے رواں دواں بحر میں ایک غزل کہی، ’چراغ طور جلاﺅ، بڑا اندھیرا ہے‘۔ اور پھر کہا، ’وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں / انہیں کہیں سے بلاﺅ، بڑا اندھیرا ہے‘۔ اندھیرا تو واقعی گہرا ہے اور تیرگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتی ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کلامِ جج بزبانِ جج

    یہ ایک ایسی رنجش تھی جو نظر تو نہیں آتی تھی لیکن اس رنجش کے باعث کئی معزز جج صاحبان کی آپس میں بول چال بند تھی۔ اب اس رنجش کو ہماری تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تاریخ کسی عام صحافی یا مصنف نے نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ ارشاد حسن خان نے لکھی ہے۔ سابق چیف [..]مزید پڑھیں

  • مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنے کا طریقہ

    برطانیہ میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ مساجد ہیں جبکہ مختلف عمارتوں میں دو سو سے زیادہ جگہیں ایسی ہیں جن کو نماز کی ادائیگی کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں مساجد کی تعمیر اور قیام پر کوئی پابندی نہیں اسی لئے یہاں مساجد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ مساج� [..]مزید پڑھیں

  • مفاد پرستوں کے سیاسی ہتھکنڈے

    دوسری جنگ عظیم کی  تیاریوں کے دوران غیر فطری اتحاد نے بہت زور پکڑا تھا۔ سیاست میں غیر فطری اتحاد سے مراد مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان ایسے اتحاد ہوتے ہیں جو کسی اصول اور نظریے کے بجائے صرف اور صرف سیاسی مفاد کی بنیاد پر ہو ۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے کئی اتحاد بنے اور ٹوٹے۔  ا [..]مزید پڑھیں

  • پارٹی اور کیمپین فنڈنگ پُراسرار کیوں؟
    • تحریر
    • 02/15/2021 5:13 PM
    • 3620

    دیکھیں، نظام  عدل سے   گِلے  اپنی جگہ مگر ہمارے ہاں  ایک اہم  مسئلہ انصاف کے بارے میں ہمار رویہ بھی ہے۔  ہم عدالت میں انصاف کے لئے نہیں جاتے، بلکہ اپنی مرضی کا انصاف ڈھونڈنے جاتے  ہیں۔  معروف قانون دان اور سابق سینیٹر ایس ایم ظفر  نے  شرکا کے  ایک سوا [..]مزید پڑھیں

  • چلتے پھرتے درخت کا سفرِ آخرت

    آج میں بہت اُداس ہوں۔ مجھے لگتا ہے لاہور 1947  کے بعد  ایک بار بھراتھل پتھل کی زد میں آ کر  اُجڑ گیا ہے۔  اس عہد کا سب سے بڑا لاہور شناس، ایک چلتا پھرتا تُلسی کا بُوٹا، زاہد ڈار  پژمردہ  ہو کر زیرِ زمین  جا سویا ہے مگر وہ اپنی بہت قیمتی، نایاب اور لاجواب یادیں  لا� [..]مزید پڑھیں