تبصرے تجزئیے

  • یہ عدلیہ کو اور عدلیہ میں کیا ہو رہا ہے؟

    پچھلے سات عشروں میں نظریہ ضرورت سے لے کر جسمانی حملوں تک عدلیہ پر ایسے ایسے وار ہو چکے ہیں کہ اب عدلیہ کو چھینک بھی آئے تو بائیس کروڑ سائیلوں کا پتہ پانی ہونے لگتا ہے۔ عدلیہ پر جب بھی کسی فوجی آمر یا سویلین تانا شاہ کی جانب سے حملہ ہوا تو ہر بار زخمی ہونے کے باوجود وہ اٹھ کھڑی ہو [..]مزید پڑھیں

  • زاہد ڈار بھی چلا گیا!

    ادب کا شہر لاہور آج اداس ہے۔ بڑی دبیز دھند چھائی ہے۔ آسمان پہ چیلیں چکر کاٹ رہی ہیں اور سردی جاتے جاتے پھر لوٹ آئی ہے کہ اس شہر کے کتب بین اور قاری زاہد ڈار کی موت کا غم منا سکے۔ زاہد ڈار جیسے لوگ سردیوں ہی میں رخصت ہوتے ہیں۔ خزاں کی ایسی شاموں میں جب، لاہور کی سڑکوں پہ بیڑی پتے ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • چین کے ساتھ جنگ بندی، پاکستان کے ساتھ کیوں نہیں

    مشرقی لداخ اور لائن آف ایکچوول کنٹرول پہ فوجی تصادم کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا ہوا کہ بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم مودی کو غدار قرار دے دیا۔  بھارت اور چین کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی تفصیلات کے سامنے نہ آنے سے کنفیوژن پھیلی اور کانگریس کے ناکام نیتا راہول گان� [..]مزید پڑھیں

  • نیب کی چغلیاں

    26جولائی 2020کی بات ہے۔ نیب نے 24گھنٹے بریکنگ نیوز دیتے ٹی وی چینلز کے کیمروں سے بچ بچا کر کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اور وزارتِ خزانہ سندھ کے دفتر میں موجود اہم دستاویزات حاصل کیں۔  اس کارروائی کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو واقعے کا پتہ چلا ت [..]مزید پڑھیں

  • کیا چیف جسٹس مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں؟

    پاکستان بار کونسل، قانون دانوں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے چیف جسٹس گلزار احمد کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریمارکس  پر شدید تحفظات   سامنے آنے کے بعد یہ سوال سنگین صورت اختیار کرگیا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملہ میں مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے ا [..]مزید پڑھیں

  • زاہد ڈار: اس نے زندگی سے صرف کتاب کا تقاضا کیا!

    نوۤے کی دہائی کے اوائل میں پاک ٹی ہاؤس اپنی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک تو یہ عرصہ دراز سے دم توڑ چکا تھا صرف اس کی موت کا رسمی اعلان ہونا باقی تھا۔  انہی دِنوں مَیں گورنمنٹ کالج سے نکل کر، جس کے ٹی ہاؤس سے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط تھے، صحافتی دُنیا میں [..]مزید پڑھیں

  • کھلونے، کتابیں اور گزرے ہوئے خواب

    ہمیں ایک دھمکی آمیز پیغام وصول ہوا ہے اور مشکل یہ ہے کہ سر تسلیم خم کیے بنا چارہ بھی نہیں۔نئے برس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دور دیس میں رہنے والے ان زمینوں کو لوٹتے ہیں جہاں سے برسوں پہلے وہ نئی منزلوں کی طرف اڑان بھر کے اجنبی سرزمینوں میں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔ &rsq [..]مزید پڑھیں

  • ہر طرف اضطراب کیوں؟

    پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جلسے اور جلوسوں میں جس قدر عوامی شمولیت کی توقع تھی وہ پوری نہیں ہوئی مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ملک میں سب ٹھیک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی ناکامی کے باوجود معاشرے میں ہرطرف حکومت کے خلاف اضطراب موجود � [..]مزید پڑھیں