تبصرے تجزئیے

  • مِلّت کے گُناہوں کا گوشوارہ

    خُدا اپنے دولت مند، غُنڈہ صفت اور بے انصاف بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اُنہیں بن مانگے دیتا ہے، چھپر پھاڑ کے دیتا ہے، فالودے اور پاپڑ والوں کے بنک کھاتوں میں غیبی ذرائع سے  ڈال کر دیتا ہے۔ اُن کو شادیوں پر کروڑوں روپے اور ڈالر  لُٹانے کی توفیق دیتا ہے۔  اس پر طرہ یہ کہ ہوائی [..]مزید پڑھیں

  • فرضی کہانی: ایک دفعہ کا ذکر ہے

    آپ نے اکثر ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے شروع میں لکھا دیکھا ہوگا کہ اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں اور کسی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ میں بھی آپ کے سامنے ایک فرضی کہانی پیش کر رہا ہوں۔  ویسے بھی ہمارے ملک میں عوام کو فرضی کہانیاں سچ سے زیادہ پسند ہیں۔ پاکستان ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک سو سڑسٹھ روپے انچاس پیسے کی قومی ترقی

    دوسری جماعت میں ہم بچے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا منظور شدہ جو قاعدہ پڑھتے تھے اس میں پاکستان کی سرحدوں، صوبوں اور قیامِ پاکستان کی آسان زبان میں وجوہات بتانے کے ساتھ ساتھ صدرِ مملکت کا بھی تعارف مندرجہ ذیل الفاظ میں کروایا گیا تھا: ’ہمارے صدر کا نام جنرل آغا محمد یحیی خان ہے۔ � [..]مزید پڑھیں

  • جو بائیڈن، معاہدہ پیرس اور ماحول

    امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جاتے جاتے نئے صدر جو بائیڈن کے لیے ایک ایسا امریکہ چھوڑ گئے جہاں بہت کچھ درست ہونے والا ہے۔ دیگر معاملات کے ساتھ بائیڈن کے سامنے جو بڑا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا ہے وہ ماحولیاتی ایمرجنسی کا ہے۔ قدرتی تیل اور گیس کے استعمال نے جس طرح ماحول کو مسموم اور [..]مزید پڑھیں

  • نیک تمناؤں کا خون اور احتساب کے گورکن

    جانے کیوں مملکت خداداد میں ہمیشہ خیر کی نیک تمناؤں کا خون ہوتا رہے گا؟ غضبناک کرپشن کی جو خوفناک کہانیاں بنائی گئیں اور ہمارے ہم عصر کڑے احتساب کے جو خوشنما خواب دکھاتے رہے اور تیزاب کی بھٹیوں میں کرپٹ مافیاز کو ڈبو دینے کی عبرتناک منظر نگاری کرتے رہے، وہ سب کی سب شرمندگی کے ج� [..]مزید پڑھیں

  • بادشاہ سلامت کی خلعت صد چاک اور صحافی کی لاتعلقی

    ایک صاحب ہوتے تھے لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمٰن۔ ضیا مارشل لا کے ساتھ ہی سیکرٹری انفارمیشن کے طور پر نمودار ہوئے۔ نفسیاتی جنگ کے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔ واللہ! جنرل صاحب نے اپنے ہی عوام کے خلاف مارچ 1985 تک شجاعت کے بھرپور جوہر دکھائے تاوقتیکہ وزیر اعظم جونیجو نے انہیں اس ذمہ داری سے � [..]مزید پڑھیں

  • انکل وہاں اندھیرا ہے

    بخدا یہ حسن اتفاق ہے کہ 16 اکتوبر 1951 کو سید اکبر راولپنڈی کے کمپنی باغ میں سٹیج کے سامنے عین ان کرسیوں پر جا بیٹھا جو پولیس کی سپیشل برانچ کے اہلکاروں کے لیے مختص تھیں۔ جب اس نے لیاقت علی خان کو دو گولیاں مار دیں تو ایک جذباتی سب انسپکٹر محمد شاہ نے سید اکبر کو گولیاں مار دیں۔ جو ہ� [..]مزید پڑھیں