تبصرے تجزئیے

  • مولانا آ نہیں رہا، آ رہے ہیں

    میرا جو بھی سیاسی نظریہ ہو اس سے قطع نظر کبھی یہ چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ میں حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کی شخصیت و سیاست کا کتنا بڑا پرستار ہوں۔ اس بابت چند برس پہلے بھی میں نے جو لکھا آج بھی اس پر قائم ہوں کہ قبل از مولانا سیاست برائے سیاست ہوا کرتی تھی مگر مولانا نے اسے فا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہ لمبا کھیل ہے

    پی ڈی ایم والے سارے بیوقوف نہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بخوبی سمجھتی ہے کہ جس راستے پہ مولانا فضل الرحمن انہیں لے کے جانا چاہتے ہیں، وہ نقصان اور بربادی کا راستہ ہے۔ مولانا اور نوازشریف بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن اُن کے دل بھرے پڑے ہیں اور ان جلے دلوں کی وجہ سے وہ سیاسی انتشار � [..]مزید پڑھیں

  • وقت کی غلامی اور ڈاکٹر طاہر تونسوی

    گردش ماہ وسال کی کہانی بہت پرانی ہے۔ انسان وقت کا غلام کب اور کیسے ہوا اور وقت کی غلامی میں آنے کے بعد وہ کن مسائل اور مشکلات سے دوچارہوا۔ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم طاقت ور ملکوں ، طاقت ور طبقوں اور گروہوں کے ساتھ ساتھ وقت کے بھی غلام ہیں اور وقت کی غلامی کا احساس ہمیں سا� [..]مزید پڑھیں

  • بتائیے فوج بیچاری کیا کرے؟

    وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور سے ایک انٹرویو میں فوج کی بے چارگی کااعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے کہ وہ   ثابت کرے کہ فوج کیسے حکومت کی پشت پناہی کررہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ  اپوزیشن  چاہتی کیا ہے، فوج آخر کیا کرے۔ وزیر اعظم کا بیان ’اس س� [..]مزید پڑھیں

  • کرک کا مندر اور ہمارے سادہ دل فواد چوہدری

    اکیسویں صدی کا اکیسواں برس شروع ہو گیا۔ فیض صاحب نے نومبر 1984کے ایسے ہی کسی کہر زدہ روز میں سوال کیا تھا،’نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے‘۔ فیض صاحب تو چلے گئے۔ مسافران رہ صحرائے ظلمت شب کی محضر پر مہر پہ مہر ثبت ہوتی چلی جاتی ہے، رہائی کا حکم نہیں ہوتا۔ گلی کوچوں میں دن� [..]مزید پڑھیں

  • کشمیر 2021

    وہ جو تقریباً دو سال سے سخت فوجی محاصرے میں ہیں، وہ جن کی شناخت، زمینیں اور حقوق چھینے گئے ہیں، وہ جن کے پندرہ لاکھ بچوں کے سکول اٹھارہ ماہ سے بند ہیں، وہ جن کی ماؤں نے اپنے تیرہ ہزار بچوں کو رات کی تاریکیوں میں پولیس کی گاڑیوں میں بٹھا کر نامعلوم جیلوں میں پہنچانے کا منظر دیکھا � [..]مزید پڑھیں

  • شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی بھائی کی تحریروں سے تعلق تو یونیورسٹی کے دنوں سے تھا مگر اُن سے پہلی بالمشافہ ملاقات شامِ بہار ٹرسٹ انبالہ والے راجندر ملہوترہ کے مشاعرے کے توسط سے 1981 میں ہوئی۔ اُن دنوں وہ دہلی میں فیڈرل پوسٹل سروس کے ایک اعلیٰ افسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس وقت اُن کا جا� [..]مزید پڑھیں

  • سال دو ہزار بیس کے دکھوں کا گوشوارہ

    ہرسال کی طرح سال 2020 میں بھی نامور شخصیات اس جہان سے رخصت ہوگئیں۔ ان میں کئی ایسے عہد سازکھلاڑی، سیاست دان اور فنکار بھی شامل تھے جنہوں نے تاریخ پر انمٹ نقوش مرتب کیے۔ گزشتہ سال کے دوران دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں بھی بہت سی اموات واقع ہوئیں اور رخصت ہونے والے علمائ [..]مزید پڑھیں