تبصرے تجزئیے

  • تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا؟

    نہ جانے کس نے کہا تھا مگر کیا خوب کہا تھا ـ ’ تمہاری آزادی کی حد وہاں تک ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے ‘۔ بخدا ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ ان دانشور کی ناک فطری حدود اربعہ رکھتی تھی یا پناکو کارٹون کی طرح کسی اور جہان کی خبر لاتی تھی۔ جوں جوں عمر ڈھل رہی ہے اس قول کی سچائی پہ م [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی بحران سے نمٹنے میں حکومتی حکمت عملی

    حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج اس وقت حکومت مخالف قوتیں ہیں جو پی ڈی ایم کے نام سے  اتحاد بنا کر حکومت کو گرانے کا ایجنڈا رکھتی ہیں۔  حکومت مخالف جماعتوں کے بقول عمرا ن خان کی حکومت کو گرانا اور ملک میں فوری طور پر نئے انتخابات کے ماحول کو پیدا کرنا ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ٹونٹی ٹونٹی ختم

    بے چارہ تہتر سالہ  پاکستان ، اپنی شکستہ  کمر کے بل  جھُک کر چلتا ہوا ، خوف کے عالم میں اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہا ہے کہ نہ جانے اب کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت اور پی ڈی ایم کے کثیر الجماعتی  اتحاد کے  درمیان  جو ٹونٹی ٹونٹی کھیلا جارہا ہے [..]مزید پڑھیں

  • ’باپ بچاؤ‘ سے ملک بچاؤ مہم تک

    گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو  شہید کی تیرھویں برسی کے موقع پر اپوزیشن لیڈروں کا پیغام واضح اور دو ٹوک  تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت  ڈلیور کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اسے حکمرانی کا حق دینا ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہوگا۔  اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز ، آصف علی [..]مزید پڑھیں

  • افروز عالم کا نظمیہ ویژن

    جب شاعر مرزا غالب کی طرح اپنے تصورکی گرمی سے نشاط خو ہو کر آئندہ زمانوں کا نقیب بننے کی بات کرے تو جان لینا چاہیئے کہ اس کے سینے میں ایسے سربستہ راز موجود ہیں کہ جن کی کشائش تا حال پردہ اخفا میں ہے اور اس کامان ہے کہ یہ خیالات کسی روز سینہ عالم پر کسی ماورائی وجدان کی صورت اتریں گے [..]مزید پڑھیں

  • اپوزیشن کی کبھی ہاں کبھی ناں

    الیکشن 2018 پر جب حزب اختلاف انگلیاں اٹھاتی ہے تو اسے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہار کی خفت مٹا رہی ہے۔ لیکن پچھلے دنوں پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے الیکشن میں کھل کر انجینرنگ کی گئی۔ پی ایس پی کی شہرت یہ ہے کہ اسے انجینرز نے ایم کیو ایم کا ووٹ ب� [..]مزید پڑھیں

  • حکومت کا کھلاڑی

    اب ترجمانوں کی فوج ظفر موج منہ دکھائے بھی تو کیسے، جب خود وزیراعظم نے اعترافِ ناکامی کر لیا۔ عمران خان صاحب کو ان کی صاف گوئی پہ داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ موصوف نے اعتراف کر ہی لیا کہ سو روز کے ہنی مون پیریڈ میں پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کہاں آن پھنسے تھے۔ پھر بھی اُنہوں نے بغی [..]مزید پڑھیں

  • استعفے، کہرا اور ملاقاتیں

    پنجاب پہ کہرا چھایا ہوا ہے۔ لاہور بھی کہر کی لپیٹ میں ہے۔ سرشام ہی یہ کافوری سے بادل، لہرئیے بناتے، بل کھاتے، سڑکوں، پارکوں، باغوں، مکانوں اور فٹ پاتھوں پہ اپنی طنابیں گاڑ لیتے ہیں۔ حد نگاہ محدود ہوئی جا رہی ہے اور اس سرد موسم کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا بھی گلی کوچوں میں پھر ر� [..]مزید پڑھیں

  • قومی ریاست کی تشکیل اور قائد اعظم کے افکار

    آج گجرات میں باسٹھ سال بعد ٹھیکیدار ہاؤس میں بانی پاکستان کے یوم ولادت پر کوئی ادبی نشست نہیں ہوئی۔ مگر ماضی کے تمام واقعات ، خیالات اور تقریبات میرے ذہن ودماغ میں گردش کر رتے رہے۔ میاں رشید ٹھکیدار، ڈاکٹر مظفرحسن ملک بشیر احمد بٹر، پروفیسر حامد حسن سید، منیر الحق  اور پرو [..]مزید پڑھیں