تبصرے تجزئیے

  • سب سے عمدہ قانون سازی

    بری خبروں کے درمیان آج کل ایک بہت اچھی خبر سننے کو مل رہی ہے، وہ اچھی خبر یہ ہے کہ خیر سے قانون سازی ہو رہی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسی قانون سازی ہو رہی ہے کہ قانون سازی کرنے والوں کو ہم عام آدمیوں سے ان کی آرا پوچھنے کی کسی قسم کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ اس میں ح� [..]مزید پڑھیں

  • یہ جو 22 کروڑ ہیں

    یہ بات تو قیام پاکستان کے چند ہی برس بعد طے کردی گئی تھی کہ اسلام کے نام پر قائم ہوئے وطن عزیز میں مغرب کا متعارف کروایا نظام جسے جمہوری کہا جاتا ہے چلایا نہیں جاسکتا۔ دستور ساز اسمبلی سے باہر موجود علمائے کرام نے باہم مل کر ”قرارداد مقاصد“ کا مسودہ تیار کیا۔ اس کی روشنی � [..]مزید پڑھیں

  • نقص چھری میں ہے یا استعمال کرنے والے میں؟

    حال ہی میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق گلاسگو میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس میں توانائی کے حصول کے آلودہ طریقوں کی جگہ شفاف ذرایع سے ”گرین انرجی“ کے حصول کی خاطر جو طریقے زیر بحث آئے ان میں جوہری توانائی کا موزوں نا موزوں ہونا بھی شامل تھا۔ ہر فارمولے کی طرح جوہری تو� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • انتخابی اصلاحات کا

    پاکستان کی سیاست، جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کی شفافیت کے تناظر میں انتخابی شفافیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں انتخابی سیاست کی تاریخ میں تمام انتخابات مختلف الزامات کی بنیاد پر متنازعہ رہے ہیں۔ ایک مسئلہ تو  انتخابی شفافیت کا ہوسکتا ہے مگر دوسرا مسئل [..]مزید پڑھیں

  • ادب کی معیشت

    محمد حسن عسکری نے ساٹھ برس قبل ادب کی موت کا اعلان کیا تو لاہور سے ناصر کاظمی کی آواز آئی، میں غزل لکھ رہا ہوں تو ادب کیسے مر سکتا ہے۔ اب ناصر غزل نہیں لکھ رہا لیکن اسد محمد خان تو افسانہ لکھ رہے ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہوا کہ ہمارے لکھنے اور پڑھنے والے ذہین نوجوان انگریزی زبان میں ل� [..]مزید پڑھیں

  • الوداع جنرل فیض حمید الوداع

    آپ کی الوداعی تقریبات تو بہت ہو چکی ہیں، صدر مملکت آپ کی خدمات کی تعریف کر چکے ہیں، وزیر اعظم خود کو آپ کے ساتھ نتھی کر چکے ہیں، وزیر خارجہ آپ کو خلعت فاخرہ عطا کر چکے ہیں، پی ٹی آئی کا ہر کارکن آپ کا احسان مند ہے۔  تحریک لبیک کے شعلہ بیان آپ کی دریا دلی کے معترف ہیں، پوری اسمب� [..]مزید پڑھیں

  • یااللہ یا رسول، بائیس کروڑ بے قصور

    لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں عدل کے سہولت کاروں (وکلا) اور عدل بانٹنے والوں کے مابین اگلے روز جس نوعیت کا مچاٹا ہوا وہ ایک صحت مند رجحان کا غماز ہے۔ ایسی ہی مباحثانہ آزادی ہم سب کو بھی درکار ہے تاکہ دلوں کا غبار ہلکا ہو اور پھر یہ دل ماضی اور حال کی نوحہ گری سے نکل کر مستق [..]مزید پڑھیں