تبصرے تجزئیے

  • پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس

    اقتدار کا کھیل بہت سفاک ہے۔ اس کے چند تقاضے ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو عمران خان صاحب کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کے ارادے کو ترک کردیں۔ چند ہی روز قبل یہ اجلاس منعقد کرنے کے لئے ایوان صدر سے اعلامیے کا با [..]مزید پڑھیں

  • سب پھنسے ہوئے ہیں

    بندر پھرتیلا جانور ہے، چابک دستی میں اس کو مات دینا مشکل ہے۔ درختوں پر کودتا ہوا کہاں سے کہاں نکل جاتا ہے۔ حملہ کرکے منہ چڑاتا ہوا واپس ایسے ہوتا ہے کہ آپ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ جال ڈالنے والے بتاتے ہیں کہ اس کے لیے جال کو کتر کر نکل جانا  آسان ہے۔ مگر پھر بھی یہ اس وقت قابو میں آ [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی نہیں معاشی مسائل پر توجہ دیں

    عمران خان کے دوستوں کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی بحران ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا، میری رائے میں سیاسی نہیں معاشی بحران عمران خان کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ اگر ان کی عوامی مقبولیت قائم رہ رہتی ہے تو سیاسی بحران حل ہو جائے گا لیکن اگر معاشی بحران مزید گہرا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اشاروں کی سیاست

    وزیراعظم عمران خان اس وقت سیاسی تنہائی کا شکار ہیں جس کے شاید وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔ حزب اختلاف تو ان کی نظر میں چور، ڈاکو اور مافیا مگر ان سے ناراض تو ان کے اپنے ہیں چاہے وہ اتحادی ہوں یا پارٹی والے جن میں سے کچھ بول سکتے ہیں باقی خاموش ہیں۔ اس سب کے باوجود مجھے نہ حکومت خطرے م [..]مزید پڑھیں

  • ملکی سیاسی منظر نامہ

    پاکستان کے سیاسی منظرنامہ میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بشمول پی ڈی ایم کافی سرگرم  اور فعال نظر آتی ہیں۔ اگرچہ تحریک عدم اعتماد کی  گونج بھی سننے کو مل رہی ہے مگر بظاہر لگتا ایسا ہے کہ اصل مقصد فوری انتخابات کا ہے۔ حزب اختلاف کی کچھ جماعتوں کا موقف ہے کہ ہمیں اپنی توجہ ت [..]مزید پڑھیں

  • رکاکت اور ابتذال کے موسم میں جینا

    برادر محترم ان دنوں خاموش ہیں ۔یوں بھی اسرافیلی طبیعت پائی ہے ۔ مہینوں بلکہ برسوں میں قلم اٹھاتے ہیں ، ان کا قلم بھی برہمن کے ناقوس، جوگی کے سنکھ اور نالہ جرس سے کم نہیں۔ کوئی چار برس پہلے خامہ ہوش ربا کو حرکت دی اور پارٹی ختم ہو نے کی خبر دی۔ یہ برہم ہونے والی محفل یوں بھی برہم [..]مزید پڑھیں

  • اصلاحات ناگزیر ہیں

    یہ کوئی راز نہیں کہ عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو چکا۔ حتیٰ کہ ان کے تعلقات میں دراڑ بھی نمودار ہو چکی ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کیا یہ صورت حال حکومت کی تبدیلی کا باعث بنے گی؟ اس کے بعد کس قسم کی حکومت آئے گی؟ کیا موجودہ حکومت 2023 تک چلتی رہے گی یا یہ فوری [..]مزید پڑھیں