تبصرے تجزئیے

  • زندگی اور موت کی پہیلیاں

    پچاس برس پردیس میں گزارنے کے بعد آدمی اپنے دیس کا نہیں رہتا۔ ہر چند کہ وہ اپنے آبائی وطن کی یادوں کو سینے سے لگائے لگائے رکھتا ہے ، اپنی مادرری زبان کے اثاثے اور ادب  سے خود کو جُدا نہیں کرتا مگر وہ پھر بھی  وہ اپنی رنگت اور اپنی زبان کی وجہ سے اجنبی ہی رہتا ہے۔ یہ اجنبیت ہمار [..]مزید پڑھیں

  • طالبان کی دو نسلوں سے میرے ذاتی رابطوں کی کہانی

    پچیس سال پہلے مجھے طالبان ملیشیا سے یہ کہہ کر متعارف کروایا گیا تھا کہ یہ لوگ افغانستان میں ”پائپ لائن پولیس“ کا کردار ادا کریں گے۔ تب طالبان سے میرے رابطے کا انتظام اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کیا تھا جو طالبان کی حمایت کرنے پر اپنی حکومت پر میری تنقید سے [..]مزید پڑھیں

  • علامہ اقبال کی خود کشی!

    سب سے پہلے تو اس نشریاتی غازی کو سلام جس نے اس بے وقوف لڑکی کے سر پر اپنا پنجہِ شفقت رکھتے ہوئے پورے تام جھام نام کے ساتھ ہم جیسے کروڑوں سے اس عفیفہ کو متعارف کروایا۔ اس ابلاغی غازی کی انٹرویو وڈیو کو ہزاروں لائیکس ملے اور ہمیں اس لڑکی کے کردار کا ایکسرے، نیت کا سی ٹی سکین اور ت� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • طالبان اور شریعت یا جمہوریت کا مخمصہ

    میرے بلوچ قوم پرست دوست سینیٹر منظور گچکی نے طنزاً طالبان کی ’فتح مبین‘ کو پنجابیوں کی کامیابی قرار دے کر مبارکباد دی بھی تو اس روز جس دن تحریک لبیک پاکستان کے ایک رکن نے لاہور میں نصب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمہ کو پاش پاش کر دیا۔ یہ وہی پنجابی مہاراجہ تھا جس نے احمد شاہ [..]مزید پڑھیں

  • ایرانی عوام اور اسلامی انقلاب؟

    11فروری 1979 کے روز امام خمینی کی قیادت میں جو انقلاب برپا ہوا اس سے ایرانی قوم ہی کو نہیں دنیا بھر کی دبی ہوئی آزادی پسند جمہوریت نواز اقوام اور تحریکوں کو بھی بلند و بانگ امیدیں تھیں کہ ڈھائی ہزار سالہ شاہی جبرو استبداد کے خلاف پسے ہوئے عوام کی طویل جدوجہد سے یہ انقلاب آیا ہے ت� [..]مزید پڑھیں

  • طالبان کا مشکل وقت شروع ہوا ہے اب

    ابھی کچھ بھی طے نہیں۔نہ سمت ، نہ شکل ، نہ چلن، کچھ بھی تو نہیں۔وہ جو کرکٹ کمنٹیٹر چوکا لگنے کے بعد آسمان کو چھوتی گیند کے بارے میں کہتے ہیں ’ اٹس اپ ان دی ائیر ‘ ۔تو وہ والی صورتِ حال ہے۔ کیا یہ سکون ہے یا نئے طوفان سے پہلے کی خامشی۔ یہ امن ہے یا قبرستانی سناٹا۔ نیا دور ہے ی [..]مزید پڑھیں

  • مینارِ پاکستان کا حادثہ اور ہمارے تصوراتِ اخلاق

    ہر حادثہ ہمارے تصورِ اخلاق کی آزمائش ہے۔مینارِ پاکستان پر ایک بیٹی کے ساتھ جوہوا، اس پر دو طرح کے ردِ عمل سامنے آئے ہیں۔ ایک میں تمام تر توجہ ہجوم پر ہے۔ مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کو لگام دی جائے جوگھر سے نکلنے والی ہر لڑکی کو جنسِ بازار سمجھتے اور اس پر ٹوٹ پڑنے کو بے تاب ہوتے ہ� [..]مزید پڑھیں

  • رونے دھونے کی بجائے حل ڈھونڈیں

    مینارِ پاکستان کے سائے تلے ہماری ’نوجوان نسل‘ نے ایک خاتون کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تین چار سو ’پاکستانی مسلمان‘ نوجوانوں نے خاتون ہی نہیں مینارِ پاکستان کی حرمت بھی جس طرح پامال کی اُس پر چیخیں مار مار کر رونے کو جی چاہتا ہے۔  اور اُس س [..]مزید پڑھیں

  • افغانستان میں دو قومی نظریہ

    جونہی میں طورخم کے راستے افغانستان میں داخل ہوا تو وہاں ڈھیلی ڈھالی شلوارقمیض اورکالی پگڑی میں ملبوس لمبی زلفوں والے طالب نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا ۔ ماضی کے برعکس یہاں کسی قسم کی امیگریشن یا رجسٹریشن کا نظام موجود نہیں تھا۔ طالبان جگہ جگہ ہاتھوں میں بندوقیں اٹھائے موجود ت� [..]مزید پڑھیں