تبصرے تجزئیے

  • کچھ تو بتائیں سرکار

    جب بھی بچے آپ سے سوال پوچھیں، پھر وہ سوال چاہے کتنا ہی چبھتا ہوا کیوں نہ ہو، آپ بچوں کو ٹھیک سے جواب دیں۔ ان کو ٹالنے اور ٹرخانے کی کوشش مت کریں۔ آپ جن سوالوں کے جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے، وہ سوال کونپلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوال گھنے تناور درختوں میں بدل � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • منزل ہے کہاں تیری اے لالہ صحرائی؟

    نوازشریف صاحب کی خاموشی تادیرباقی نہیں رہ سکتی۔کچھ ہی دنوں میں افواہوں کی بھنبھناہٹ اس کی جگہ لے لے گی۔اگلے مرحلے میں یہ افوہیں شور میں ڈھل جائیں گی۔پھر وہ بولنا چاہیں گے تو بھی ان کی آواز سنائی نہیں دے گی۔یہ اب ان کی مرضی ہے کہ وہ اُس وقت کا انتظار کرتے ہیں یا خود ہی اپنی خامو� [..]مزید پڑھیں

  • مسئلہ افغانستان کا تکنیکی و سیاسی تناظر

    گزشتہ ہفتے پیرس میں پاکستان کو گرے لسٹ  اور نیویارک میں افغانستان پر بڑے دور رس فیصلے ہوئے ہیں۔پا کستان کی حکومت کے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات میں سے  26 پر  عمل کرنے کے باوجود گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جوازنہیں ہے جس سے لگتا ہے یہ فورم تکنیکی نہیں  بلکہ سیاسی ہے۔  پا کس� [..]مزید پڑھیں

  • مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ناکام ڈرامہ

    بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پر داخلی اور خارجی دونوں سطحوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں اختیار کی جانے والی سیاسی، انتظامی اور طاقت کی پالیسی میں تبدیلی کے تناظر میں دباؤ کا سامنا ہے۔کیونکہ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ جو کچھ مقبوصہ کشمیر کی صورتحال ہے وہ عملی طور پر مودی حکومت [..]مزید پڑھیں

  • پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت

    افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وزیراعظم عمران خان پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت میں اہم تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان امریکہ سے مہذبانہ بنیادوں پر ایسے تعلق کے خواہاں ہیں جیسے امریکہ اور برطانیہ یا امریکہ اور بھارت کے درمیان قائم ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کی تار [..]مزید پڑھیں

  • عذر خواہی کی سیاست اور عذاب رت کے ملول پنچھی

    20  دسمبر 1971 کی رات سرد اور سیاہ تھی۔ سنہ ہجری 1391 تھا اور ذی قعد کی یکم تاریخ۔ معلوم انسانی تاریخ میں کسی قوم نے شاید ہی ایسا المیہ دیکھا ہو۔ دشمن ہمسایہ ملک نے دو ہفتے سے بھی کم لڑائی میں آدھے سے زیادہ ملک چھین لیا تھا۔ اس سے بڑا حادثہ یہ تھا کہ الگ ہونے والے حصے کا بچہ بچہ ساب� [..]مزید پڑھیں

  • سکاٹ لینڈ کی آزادی

    1994 میں مجھے پہلی بار ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے سکاٹ لینڈ جانے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر شفیع کوثر، احمد ریاض اور راحت زاہد اس وقت گلاسگو میں اردو زبان و ادب کی بقا اور فروغ کے چراغ روشن کرنے میں سرگرم عمل تھے جبکہ طاہر انعام شیخ اردو صحافت کے علمبردار بلکہ میر کارواں تھے۔ سکاٹ لینڈ � [..]مزید پڑھیں