تبصرے تجزئیے

  • قومی اسمبلی سارجنٹ نے اماں کو کیا کہانی سنائی

    کہانیاں، کہہ مکرنی، حکایتیں، روایتیں، افسانے۔ یہ سب سنانے والوں کے دم سے وجود پاتے ہیں۔ کہانی کہنا اور سننا انسان کی سرشت میں ہے، اسے اچھا لگتا ہے یہ جاننا کہ کسی کی بیتی آخر کیسے بیتی۔ یہ بتانا کہ جو اس نے دیکھا تو کیا دیکھا۔ ایسی ہی ایک کہانی قومی اسمبلی کے سارجنٹ نے اپنی ام� [..]مزید پڑھیں

  • یہ ہماری پارلیمنٹ ہے اور یہ ہماری پارٹی۔۔۔

    کسی نے کہا یہ جمہوریت کا جنازہ ہے، کسی نے کہا کسی سکول کے گراؤنڈ میں یا گلی کی نکڑ پر ہونے والا لونڈوں کا پھڈا ہے۔ کوئی سوچ رہا ہے کہ کیا اب پارلیمان کے اجلاس کی نشریات سے بچوں کو دور رکھیں اور ’صرف بالغان کے لیے‘ کی ریٹنگ لگا دیں۔ کسی کو صدارتی نظام کے خواب دکھائی دے رہے ہ� [..]مزید پڑھیں

  • شہباز شریف اور سیاست کا سراب

    شہباز شریف سراب کو دریا سمجھتے ہیں۔ سال ڈیڑھ پہلے اسی کالم میں توجہ دلائی تھی کہ جس نظام میں نواز شریف کے لیے کوئی جگہ نہیں، اس میں شہباز شریف کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں۔ الا یہ کہ وہ کھلی بغاوت پر اتر آئیں۔ عرفِ عام میں ’ن‘ سے ’ش‘ نکل آئے۔ برسوں کی روایت کے برخلا� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فواد چوہدری پاکستان کو کورونا سے بچا سکتے ہیں

    چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں گھر میں گھس کر کچھ نامعلوم افراد نے ایک صحافی پر تشدد کیا۔ جب اس واقعے پر خبر بنانے کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک صحافی نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا ردِعمل حاصل کرنا چاہا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے پاکستانی حکومت کی کورونا کے خلاف کامیابی پر [..]مزید پڑھیں

  • پولیس ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہے

    ہم جو سیاست یا میڈیا میں بڑی بڑی باتیں اِصلاح کی کرتے ہیں بیشتر فضول  باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے جیسے معاشرے میں دو اداروں کی اِصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عدالتی نظام اور دوسرا پولیس کا محکمہ۔ عدالتی نظام تو رہنے دیجئے، حساس مسئلہ ہے اِس پہ کچھ کہنا اِتنا آسان نہیں لیکن پ� [..]مزید پڑھیں

  • سنسرشپ میں پاکستان کا دم گھٹ رہا ہے

    پاکستان میں کچھ مہربانوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ مجھے ٹیلی ویژن کی سکرین سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ مجھے سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں دو دہائیوں سے جیو نیوز پر ’کیپیٹل ٹاک‘ کی میزبانی کر رہا تھا۔ پچھلے مہینے میرے اس ٹاک شو میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔  مجھ [..]مزید پڑھیں

  • پارلیمانی تشدد کا آنکھوں دیکھا حال

    قومی اسمبلی میں 15 جون کو جو کچھ ہوا، اس پر آئین ساز ادارے کے منتخب نمائندے شرمندہ ہوں یا نہ ہوں لیکن ان ووٹروں کے سر شرم سے ضرور جھک گئے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سیاست استدلال کے ساتھ مسائل کا حل نکالنے کا ذریعہ ہے۔ جب سیاست میں تشدد شامل ہوجائے تو وہ لعنت بن جاتی ہے۔ 7 دہائیوں سے سی� [..]مزید پڑھیں

  • جامعہ نعیمیہ میں : علمائے اہلسنت سے گزارشات

    کورونا نے عرصہ دراز سے سماجی روابط بڑی حد تک کاٹ رکھے ہیں مگر اب بہتری کے کچھ آثار پیدا ہوئے ہیں۔ اس طرح 12جون کو فیضان خالد کے اصرار پر لبرل ہیومن فورم کے فنکشن میں شرکت کی اور 13جون کو ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب کی دعوت اور پیر ضیاالحق نقشبندی صاحب کی بھرپور محبت پر جامعہ نعیمیہ می [..]مزید پڑھیں