تبصرے تجزئیے

  • یقیں محکم، عمل پیہم، جہالت فاتحِ عالم

    جب مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کی آبادی ساڑھے تین سے چار کروڑ نفوس پر مشتمل تھی تو اوسط درجے کی شاعری یا نثری کتاب کا پہلا ایڈیشن پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا تھا۔ جب آبادی آٹھ کروڑ ہو گئی تو پہلا کتابی ایڈیشن بھی پانچ ہزار سے گھٹ کر ایک ہزار نسخوں تک آن پہنچا۔ آج پاکستا� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کرونا کاعلاج اور عدم شفافیت کا نظام

    پاکستان میں حکمرانی کا بحران ہمیشہ سے رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد خیال تھا کہ جس انداز سے سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات مرکز سے صوبوں میں منتقل ہوں گے تو اس کا ایک بڑا نتیجہ صوبائی اور مقامی سطح پر منصفانہ او رشفاف حکمرانی کے تناظر میں دیکھنے کو ملے گا۔ مرکز سے اختیارات صوبو� [..]مزید پڑھیں

  • پیارے سہیل صاحب!

    پیارے سہیل صاحب مجھے معلوم ہے آپ آج بھی ویسے ہی مسکراتے دیکھ رہے ہیں اور آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی ہے، آدھی مسکراہٹ واضح آدھی مونچھوں کے پیچھے چھپی ہے۔  آپ سر اثبات میں ہلاکر کہہ رہے سرور آپ کہاں رہ گئے۔ آپ میری تدفین پر بھی نہیں آئے۔ سہیل صاحب اتنی طاقت کہاں سے لاتا۔ [..]مزید پڑھیں

  • بس اتنی سی کہانی ہے...

    18 اگست 2018 کو عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان ایوان صدر میں تاریخی معانقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کے لئے تو خوشگوارتھا ہی مگر یہ بھارت میں مقیم سکھ برادری کے لئے غیر معمولی اہ� [..]مزید پڑھیں

  • اتنی بھی نازک مزاجی کیا

    جب شاہسوارِ اعظم جنرل ضیاالحق براجمانِ اقتدار تھے تو ایک موقع پر اُنہوں نے یہ تاریخی جملے ادا کئے کہ آئین کیا ہے اتنے صفحات کا کتابچہ، جب چاہوں اِسے پھاڑ کے ایک طرف رکھ دوں۔ آٹھ سال تک اُس کتابچے کو معطل رکھا اور جب بحال بھی کیا تو ایسی ترمیمات کے ساتھ کہ اُس کا حلیہ بگاڑ دی� [..]مزید پڑھیں

  • مینڈکی نے بھی پنجہ آگے کر دیا

    اس ذہن اور طرزِ عمل کا تعلق ہرگز ہرگز انتخابی دھاندلی سے نہیں۔ جو بھی جیتتا ہے اس کے نزدیک انتخاب منصفانہ ہوتا ہے۔ جو بھی ہارے اسے یقین ہوتا ہے کہ بھلے پکڑ میں نہ آئے پھر بھی کہیں نہ کہیں کوئی تو گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ میں یعنی میں ہار جاؤں۔ حالانکہ کسی بھی ان� [..]مزید پڑھیں