تبصرے تجزئیے

  • کیا تھپڑ صرف غریبوں کا مقدر ہے؟

    تھپڑ کھانے سے جو تذلیل محسوس ہوتی ہے، اس سے بڑی کوئی تذلیل نہیں۔ اِس لئے تھپڑ کے حوالے سے محاورے بھی بنے ہوئے ہیں،نظام کے منہ پر تھپڑ یا قانون کے منہ پر طمانچہ جیسی اصطلاحیں بھی عام ہیں۔ مگر جس طرح کہتے ہیں کتا کاٹے تو خبر نہیں بنتی،اسی طرح غریب کے منہ پر امیر تھپڑ مار دے تو کو� [..]مزید پڑھیں

  • فرنگی قمار خانہ اور ہند کا میکدہ

    علامہ اقبال نے فرمایاتھا: جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ اقبال نے یہ پیش گوئی کم وبیش سو برس پہلے کی تھی۔ فرنگی جواریوں کا قائم کردہ یہ نظام کئی سو سال برقرار رہا۔ معلوم ہوتا ہے اب اس پر بڑھاپے کے آثار ہیں۔ دکھائی دے رہا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • الف کا پولیس مقابلہ

    الف کا خیال تھا کہ اب اسے کچھ کرنا چاہیے۔ یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ وہ شام کو دفتر سے لوٹتا تو اپنے ایک کمرے کے مکان میں چارپائی پر لیٹ کر چھت کے اُس پنکھے کو دیکھتا رہتا جو ہر چکر میں ایک مرتبہ کھٹکتا تھا اور سوچتا کہ اِس پنکھے اور شہر کے لوگوں میں کوئی ف� [..]مزید پڑھیں

  • کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟

    ملتان میں   گاڑی سے کچل کر ایک یتیم بچے کو ہلاک کرنے والے شخص کی  پولیس حراست  میں ہلاکت کے بعد    تشدد کے متعدد واقعات میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی  حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس رویہ سے صوبے میں قانون کی عمل داری اور عدالتوں کے دائرہ اختیار ک� [..]مزید پڑھیں

  • تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

    پاکستان تحریک انصاف کے سورما اب ایک دوسرے پر پل پڑے ہیں۔ دمشق کی تیز دھار تلوار جیسی زبانیں جو پہلے دوسروں کی گردن سے لپٹ جاتی تھیں، اب ایک دوسرے پر آتش فشاں پھینک رہی ہیں۔ زباں بکف جنگجو ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں ۔ کچھ وہ ہیں جنہیں اپنی عزت کا کچھ پاس ہے۔ وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ب [..]مزید پڑھیں

  • وہ پاکستان کا ’جرنیل سپاہی‘

    میاں فاروق الطاف لاہور کیا پاکستان کے بڑے بزنس مین تھے۔ تجارت کی اور صنعتکار بھی بنے۔ کروڑوں کیا اربوں کمائے ہوں گے بلکہ کما رہے ہوں گے۔اُن کے اکلوتے بیٹے سلمان فاروق امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے واپس آئے بلکہ لائے گئے تو انہوں نے کاروبار سنبھال لیا۔ میاں صاحب نے اپنے آپ � [..]مزید پڑھیں

  • دوسری ٹانگ کا خوف

    میں 17 سال سے سنگاپور میں رہ رہا ہوں، ان تمام سالوں کے دوران مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوا جیسے میری ایک ٹانگ مستقلاً جیل میں ہے… کئی سال قبل سنگاپور میں ایک جرمن کاروباری شناسا سے یہ الفاظ سنے تو ہم چونک سے گئے۔ حیرت سے پوچھا، کیا مطلب؟ بولے: سنگاپور میں قانون اور قانون کا نفاذ ا [..]مزید پڑھیں

  • بھارتی سرپرستی میں اتنا کچھ

    سچ پوچھیں تو بھارت کا ذکر سن سن کر ناگواری سی ہوتی ہے۔ کیادشمن کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ ہر طرف سے ہم پر حملے کر ے ؟ ان حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا تو یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی تک جو کارروائیاں ہورہی ہیں ناکافی یا نامکمل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج، بلوچستان میں فتنہ ا [..]مزید پڑھیں

  • صحافت: تاریخ کو شکست دینے والا لفظ

    قیام پاکستان سے قبل ہی صحافت میں مذہبی بنیاد پر دو دھارے نمایاں ہو چکے تھے۔ ہندو صحافت، بالخصوص ہندوستان ٹائمز، پرتاپ، ملاپ وغیرہ کے پس پشت اکالی اور آریہ سماجی جیسے سیاسی گروہوں نیز برلا گھرانے جیسے صنعت کاروں کی دولت تھی، پیشہ ورانہ اصول ضابطے تھے۔ صحافیوں کو بروقت اور م� [..]مزید پڑھیں