تبصرے تجزئیے

  • مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ناکام ڈرامہ

    بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پر داخلی اور خارجی دونوں سطحوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں اختیار کی جانے والی سیاسی، انتظامی اور طاقت کی پالیسی میں تبدیلی کے تناظر میں دباؤ کا سامنا ہے۔کیونکہ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ جو کچھ مقبوصہ کشمیر کی صورتحال ہے وہ عملی طور پر مودی حکومت [..]مزید پڑھیں

  • پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت

    افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وزیراعظم عمران خان پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت میں اہم تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان امریکہ سے مہذبانہ بنیادوں پر ایسے تعلق کے خواہاں ہیں جیسے امریکہ اور برطانیہ یا امریکہ اور بھارت کے درمیان قائم ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کی تار [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عذر خواہی کی سیاست اور عذاب رت کے ملول پنچھی

    20  دسمبر 1971 کی رات سرد اور سیاہ تھی۔ سنہ ہجری 1391 تھا اور ذی قعد کی یکم تاریخ۔ معلوم انسانی تاریخ میں کسی قوم نے شاید ہی ایسا المیہ دیکھا ہو۔ دشمن ہمسایہ ملک نے دو ہفتے سے بھی کم لڑائی میں آدھے سے زیادہ ملک چھین لیا تھا۔ اس سے بڑا حادثہ یہ تھا کہ الگ ہونے والے حصے کا بچہ بچہ ساب� [..]مزید پڑھیں

  • سکاٹ لینڈ کی آزادی

    1994 میں مجھے پہلی بار ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے سکاٹ لینڈ جانے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر شفیع کوثر، احمد ریاض اور راحت زاہد اس وقت گلاسگو میں اردو زبان و ادب کی بقا اور فروغ کے چراغ روشن کرنے میں سرگرم عمل تھے جبکہ طاہر انعام شیخ اردو صحافت کے علمبردار بلکہ میر کارواں تھے۔ سکاٹ لینڈ � [..]مزید پڑھیں

  • مذہبی ریاستوں کا غیر مذہبی انجام

    لاہور میں مقیم ایک درویشِ خُدا مست نے جو خُود بھی جالندھر سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے تھے، ایک بار فرمایا تھا کہ: اسلام مسلمان بناتا ہے، پاکستانی یا ہندوستانی نہیں بناتا۔ اور یہ سچ ہے کیونکہ لگ بھگ  بیس کروڑ  مسلمان آج بھی بھارت میں آباد ہیں،   بھارتی شہری ہونے کی [..]مزید پڑھیں

  • تین اہم تبدیلیاں

    گزشتہ بدھ اور جمعہ کو تین اہم واقعات دہلی، پیرس اور واشنگٹن میں ایسے ہوئے ہیں جن کے مضمرات پاکستان کےلئے نہایت دور رس ہوں گے۔ عمران حکومت ان سے کیسے نمٹے گی اس کا اندازہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور وفاقی وزیر حماد اظہر کے سطحی بیانات سے کیا جاس [..]مزید پڑھیں

  • انتشار کی دستک

    نائن الیون کے بعد امریکی افواج کی طرف سے افغانستان پرحملہ کیا گیا تو ملاعمرنے کہا کہ ’’امریکیوں کے پاس گھڑیاں ہیں اورہمارے پاس وقت لہٰذا یہ جنگ ہم جیتیں گے ‘‘۔ ٹھیک 20سال بعد ملاعمرکی یہ بات درست ثابت ہوتی نظرآرہی ہےکہ امریکہ کو تاریخ کی طویل ترین جنگ کے بعد واپس ل [..]مزید پڑھیں