تبصرے تجزئیے

  • گالی کلچر نہیں، جرم کی دھمکی ہے

    مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دیا ہے۔ بظاہر محترم روحیل اصغر پارلیمنٹ کے فلور پر اپنے رویے کا مسکت دفاع کرنے سے قاصر تھے چنانچہ رکھائی سے اپنا ذاتی فعل پنجاب کی ثقافت کے سر منڈھ دیا۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ 80 کی دہائی کے ابتد [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف کے یو ٹرن اور ترپ کا پتہ

    کیا میاں محمد نواز شریف نے یو ٹرن لے لیا ہے؟ کیا ان کا بیانیہ چپکے سے بدل گیا ہے؟ کیا وہ شہباز شریف کو سامنے لا کر پیپلز پارٹی کی طرح مک مکا کی سیاست کی راہ اختیار کر چکے ہیں؟ ظاہراً تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ میاں نواز شریف طویل عرصے سے خاموش ہیں۔ ملک کو درپیش خطرات ہوں یا بجٹ کی وہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مسئلہ افغانستان کا ممکنہ حل اور پاور بروکرز

    ہمارے پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر اندرونی سیاسی اور معاشی صورتحال کے بارے میں نان ایشوز پر لکھا جاتا اور بحث ہوتی ہے جس کا خاتمہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے پر  ہوتا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں تو بات گالی گلوچ تک پہنچ گئی ہے۔  خارجہ پالیسی کے حوالہ کبھی سنجیدہ بحث نہیں ہوتی ہ [..]مزید پڑھیں

  • اِفراطِ آبادی ، زمین کی بربادی

    یہ زمین ذہنی نابالغوں، بے سمجھوں اور ان کوالیفائیڈ والدین سے بھری پڑی ہے ۔ اور بعض مراثی صفات دانشوروں نے   میاں بیوی کے رشتے کو اپنے تمسخر، کم ظرفی  اور گھٹیا ظرافت سے ادب کا غیر ضروری موضوع بنا رکھا ہے ۔  اس طرح وہ نہ صرف میاں بیوی کے مقدس رشتے کی توہین  کرتے ہیں ب [..]مزید پڑھیں

  • انا کی نذر ہوتا نظام!

    حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان قومی اسمبلی میں بقائے باہمی کی فضا قائم کر کے ایک مکدر ماحول کو نسبتاً خوشگوار بنانے اور غنڈہ گردی کے بجائے ایک دوسرے کی بات اطمینان سننے کی امید، امید موہوم ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں ہونے والی انڈرسٹینڈنگ کے تحت جمعہ کو مخالفین کی � [..]مزید پڑھیں

  • مفتی عزیز الرحمان تنہا قصور وار نہیں ہے!

    نوجوان طالب علم کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے والے لاہور کے مفتی عزیزالرحمان کو میانوالی سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔  ملزم  مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لئے مفرور تھا ۔ گزشتہ روز ہی لاہور پولیس نے بتایا تھا کہ متعدد جگہ چھاپہ مارنے کے باوجود   ملزم گرفتار نہی [..]مزید پڑھیں

  • پارلیمانی فساد اور وکلا اور صحافیوں کی دہائی

    ایسے وقت میں جب منتخب اداروں میں طوفان بدتمیزی بپا ہے۔ جوتیوں اور بجٹ دستاویزات کی ایک دوسرے پہ بارش کی جارہی ہے اور جاری مغلظات نے پارلیمانی روایات کی تذلیل کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں تو کوئی جمہوریت پسند پارلیمانی بالادستی کی بات کرے تو کس منہ سے۔ اسی طرح جب سپریم کورٹ بار � [..]مزید پڑھیں