تبصرے تجزئیے

  • سب کو ’خوش ‘ کرنے والا بجٹ

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی سال 22۔2021 کے لئے  8487 ارب روپے کا بجٹ  قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔     یہ بجٹ 3420   ارب روپےخسارہ پر  مشتمل ہے کیوں کہ حکومتی اخراجات بدستور اس کی آمدنی اور ٹیکسوں میں ریکارڈ اضافے کے دعوؤں کے باوجود  سے بہت زیادہ ہیں۔ اس خس [..]مزید پڑھیں

  • آزادی پسندوں کی غیر موثر الیکشن پالیسی

    ریاست جموں کشمیر کے غیر مشروط حق خودارادیت پر یقین رکھنے والی جماعتوں نے بھارت اور پاکستان کے زیر قبضہ ریاست جموں کشمیر میں الیکشن بائیکاٹ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند تو حالت جنگ میں ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں الحاق کی شق کے خلاف احتجاجی طور پر الیکش [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پاک بھارت تعلقات اور پس پردہ ڈپلومیسی

    پاکستان او ربھارت کے درمیان تعلقات  میں بڑی رکاوٹ دونوں اطراف موجود بداعتمادی،  عدم اعتماد، تعصب اور مخاصمت کی شکل میں دیکھنے کو ملتی ہے۔نریندر مودی کے دور اقتدار میں بالخصوص ہمیں بھارت کی جانب سے پاکستان سے تعلقات کے تناظر میں زیادہ شدت پسندی، انتہا پسندی یا ڈیڈلاک کا س [..]مزید پڑھیں

  • کیا یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا؟

    منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی نے ایک تحریری بیان میں سپریم  کورٹ کو بتایا تھا  کہ کس طرح آئی ایس  آئی کےافسران جن میں ادارے کے  موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شامل تھے،ان سے ملاقات  کرکے  فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی  کوشش کرتے رہے ت [..]مزید پڑھیں

  • امریکہ کو فضائی اڈے دینے کا معاملہ

    24مئی 2021 کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے   پنٹاگون کی جانب سے یہ  بیان شائع کیا  کہ’  پاکستان نے امریکی افواج کو   اپنی   فضائی  حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور انہیں رسائی دے دی ہے تا کہ پاکستان   افغانستان میں امریکہ کی   م [..]مزید پڑھیں

  • وہ صنم بناتے نہیں جو ٹوٹ جائے

    پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ صحافیوں کی تنظیم ہے جو کہ عدالت عظمیٰ میں روزانہ کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں پر مشتمل ہے۔ اس تنظیم کے پاس سپریم کورٹ عمارت کے اندر ایک کمرہ ہے۔ یہ کمرہ پہلے اپنے سائز میں خاصا چھوٹا ہوتا تھا۔ درمیان میں ایک بڑی سی کانفرنس میز تھی جس کے چاروں طرف ر� [..]مزید پڑھیں

  • مزاحمتی ادب اور مزاحمتی صحافت

    عوام اور ادب کا تعلق ختم ہو چکا۔عوامی جذبات کی ترجمانی اورجبر کے خلاف مزاحمت ادب کے وظائف میں شامل ہیں۔آج کا ادیب اور شاعر مگر یہ مزاحمت اور ترجمانی کرتا دکھائی نہیں دیتا،الا ماشاء اللہ۔ ہر تعلق کی طرح،ادب اور عوام کا تعلق بھی دوطرفہ ہے۔ایک طرف ادب عوام کا تر جمان نہیں رہا ا [..]مزید پڑھیں