تبصرے تجزئیے

  • پیارے سہیل صاحب!

    پیارے سہیل صاحب مجھے معلوم ہے آپ آج بھی ویسے ہی مسکراتے دیکھ رہے ہیں اور آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی ہے، آدھی مسکراہٹ واضح آدھی مونچھوں کے پیچھے چھپی ہے۔  آپ سر اثبات میں ہلاکر کہہ رہے سرور آپ کہاں رہ گئے۔ آپ میری تدفین پر بھی نہیں آئے۔ سہیل صاحب اتنی طاقت کہاں سے لاتا۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بس اتنی سی کہانی ہے...

    18 اگست 2018 کو عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان ایوان صدر میں تاریخی معانقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کے لئے تو خوشگوارتھا ہی مگر یہ بھارت میں مقیم سکھ برادری کے لئے غیر معمولی اہ� [..]مزید پڑھیں

  • اتنی بھی نازک مزاجی کیا

    جب شاہسوارِ اعظم جنرل ضیاالحق براجمانِ اقتدار تھے تو ایک موقع پر اُنہوں نے یہ تاریخی جملے ادا کئے کہ آئین کیا ہے اتنے صفحات کا کتابچہ، جب چاہوں اِسے پھاڑ کے ایک طرف رکھ دوں۔ آٹھ سال تک اُس کتابچے کو معطل رکھا اور جب بحال بھی کیا تو ایسی ترمیمات کے ساتھ کہ اُس کا حلیہ بگاڑ دی� [..]مزید پڑھیں

  • مینڈکی نے بھی پنجہ آگے کر دیا

    اس ذہن اور طرزِ عمل کا تعلق ہرگز ہرگز انتخابی دھاندلی سے نہیں۔ جو بھی جیتتا ہے اس کے نزدیک انتخاب منصفانہ ہوتا ہے۔ جو بھی ہارے اسے یقین ہوتا ہے کہ بھلے پکڑ میں نہ آئے پھر بھی کہیں نہ کہیں کوئی تو گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ میں یعنی میں ہار جاؤں۔ حالانکہ کسی بھی ان� [..]مزید پڑھیں

  • بھارت پر کرونا کا قہر

    بھارت کی سڑکوں پر کرونا کا قہر دیکھ کر یہ خیال بار بار ذہن کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ بھارت سمیت بعض ملکوں میں قوم پرستی کی لہر کے پیچھے اگر اپنی سرحدوں کو محفوظ اور اپنے عوام کی قومی شناخت کو جگا کر انہیں خودکفیل یا ’آتم نربھر‘ بنانا مقصود تھا تو وہ جان لیوا وائرس کے شکار مریضوں ک� [..]مزید پڑھیں

  • پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست اور جمہوری سوال

    پہلی عالمی جنگ میں چار بڑی سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ روس میں زار نکولس رومانوف اور جرمن – پرشین سلطنت میں قیصر ولہلم کے عہد تمام ہوئے، ترکی میں عثمانی سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی۔ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کا نام و نشان مٹ گیا۔ قدیم یورپ کے بطن سے نیا یورپ جنم لے رہا تھا۔ جنگ معمولات ز� [..]مزید پڑھیں

  • اچھا مقصد، خراب طریق کار

    آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے قومی سلامتی کی تزویراتی جہت کا از سر نو تعین چاہتے ہیں۔ خاص طور پر جس کا تعلق بھارت اور کشمیر تنازع سے ہے اور جو عشروں سے پاکستان کے قومی اہداف پر حاوی ہے۔  جنرل باجوہ کا کہنا ہے کہ نئے معاشی، سیاسی اورعلاقائ [..]مزید پڑھیں