تبصرے تجزئیے

  • مذہب کے نام پر سیاست تباہی کا راستہ ہے

    خبر ہے  کہ  جمعہ کے روز حکمران جماعت کے بعض  ارکان نے  ’کالعدم تحریک لبیک‘ کے مطالبوں والے پلے کارڈ اٹھا کر  قومی اسمبلی میں اسپیکر کی کرسی کے سامنے اپوزیشن کے ساتھ مل کر احتجاج کیا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک ایم این اے نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا، اس � [..]مزید پڑھیں

  • خدا پہ یقین ہے!

    کیا کبھی ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں۔دن بھر زندگی کو گزار کر اور عبادت کر کے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے۔کہتے ہیں،اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ ضرور اسے ملتا ہے۔چاہے وہ اچھا ہو یا برا ہو۔ جس طرح اچھائی کی جزا ملتی ہے اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ [..]مزید پڑھیں

  • کرونا کا عذاب اور صبر و صلوٰۃ

    کتاب اللہ میں لکھا ہے:  خُشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خُدا اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے  عجب نہیں کہ وہ باز آئیں۔ الروم۔ ۱۴ وہ بعض اعمال کیا ہیں  جو خُشکی اور تری میں فساد کا سبب بن  رہے ہیں یا بنتے ہیں۔ تو اس سلسلہ میں کتاب اللہ میں واض� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • زندگی کا بجٹ موت پر لگانے والے ایٹمی پڑوسی

    ستر برسوں کی جنگی مقابلہ بازیوں میں کبھی ایک نے برتری کا دعوی کیا تو کبھی دوسرے نے غلبے کے بھاشن دیے۔ فتح و نصرت اور عزم و ہمت کے کون کون سے حوالے ہیں، جو ان کے نصابوں، کہانیوں اور فلموں میں موجود نہیں ہیں۔ وقت پڑا تو معلوم ہوا کہ پون صدی سے یہ مقابلہ موت کی خیرات بانٹنے میں ہو ر [..]مزید پڑھیں

  • کوویڈیا بالم پدھارو مارے دیس

    خرابی کہہ لیں کہ خوبی کورونا وائرس کی اپنی دنیا، اپنے روپ، اپنی چالیں، اپنے بھیس اور اپنے اوقات ہیں۔ یہ کہاں سے نمودار ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ پہلے کہاں تھا ؟ اب کہاں جا رہا ہے اور ہمیں بھی لے کر جا رہا ہے ؟ اس کے ہم زاد ، ممیرے، چچیرے کون ہیں، کتنے ہیں، ان کی شکلیں، واردات کے طریقے اور [..]مزید پڑھیں

  • وبا کا قہر

    کورونا وائرس ایک برس سے زائد عرصے سے دنیا پہ منڈلاتا پھر رہا ہے۔ پہلی، دوسری، تیسری اور کچھ ملکوں میں چوتھی لہر آچکی ہے۔ موت، وبا کا روپ دھارے اب ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ انڈیا میں، ہم جیسے، ہماری ہی زبان بولتے، ہماری ہی طرح روتے، سسکتے، ہم جیسے ہی غریب اور پسماندہ انسان اس کے قہر [..]مزید پڑھیں

  • مولانا وحید الدینؒ خان کی بات

    مولانا وحیدالدین خان ایک صدی کے لگ بھگ اِس دُنیا میں گزار کر بالآخر اپنے رَب کے پاس چلے گئے کہ جس کی رضا کا حصول ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ ان کا نام پہلی بار اُس وقت سنا جب کالج میں سیکنڈ یا تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور جماعت اسلامی توجہ کا مرکز ت [..]مزید پڑھیں

  • آزادی اظہار اور مکالمہ کا کلچر

    اپنی بات کرنے کا حق ہر کسی کا سیاسی، جمہوری اور قانونی حق ہے۔ یہ حق اسے ہر صورت ملنا چاہیے کہ وہ اپنی بات کرنے میں نہ صرف آزاد ہو بلکہ اس اظہار پر اسے کسی بھی سطح پر کسی بھی قسم کے دباؤ کا سامنا نہ ہو۔ مہذہب اور ذمہ دار معاشروں کو جانچنے کا ایک بنیادی اشاریہ آزادی اظہار کی آزادی&n [..]مزید پڑھیں

  • موت العالِم، موت العالَم

    بیسویں صدی کے بڑے اور جیّد عالم مولانا وحیدالدین خاں دنیا سے رخصت ہوئے۔خدا کا ایک بندہ جو پیغمبروں کی اتباع میں، تمام عمر رب سے ملاقات کی منادی کرتا رہا، اپنے رب کے سامنے پیش ہوگیا۔  میں تصور کرسکتا ہوں کہ پروردگارِ عالم کے دربار میں، ایک داعی الی اللہ کی یہ حاضری کیسی ہوگی [..]مزید پڑھیں

  • یا علاج کیجئے یا زخم چاٹتے رہئے

    امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہی کی دولت سے (میر) دو ہفتے قبل اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) نے پاکستان میں معاشی مساوات کی تازہ تصویر کی بابت قومی انسانی ترقی کی جو رپورٹ شائع کی۔ اس نے میر صاحب کا مذکورہ بالا شعر بصورتِ زخم پھر ہرا کرد� [..]مزید پڑھیں