تبصرے تجزئیے

  • کون سا داغدار اُجالا؟

    جب اپنی شہرہ آفاق نظم میں فیض صاحب نے داغدار اُجالے کی بات کی تب تو نسبتاً ہر چیز ٹھیک تھی۔ پاکستان کو بنے کچھ سال ہی ہوئے تھے اور قومی زندگی میں چھوٹی موٹی وارداتیں تو شروع ہو چکی تھیں لیکن جن بڑے کارناموں نے تاریخِ پاکستان کی زینت بننا تھا، وہ ابھی باقی تھے۔ جسے پاکستان میں [..]مزید پڑھیں

  • قطر نے ملازمت کے ظالمانہ قوانین کیوں تبدیل کیے؟

    اگر آپ کا شمار بھی دبئی، دوحہ یا شارجہ جیسے خلیجی ممالک میں رہنے والے یا کام کرنے والے پاکستانیوں میں ہوتا ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہاں نوکری تبدیل کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ امریکا میں تو نوکری کے لیے لیا گیا ایچ 1 بی ویزا  ایک آجر سے دوسرے پر منتقل کروایا جاسکتا ہے لیکن ک� [..]مزید پڑھیں

  • 25 مارچ: حافظے کی کمزوری اور تاریخ کا بحران

    روسی ادیب انتون چیخوف نے 1886میں ایک کہانی لکھی تھی، روسی زبان میں عنوان تھا Tocka، اردو میں ’دکھ‘ کہہ لیجیے۔ ایک بوڑھے گاڑی بان کا بیٹا کوزما آئیونچ نوجوانی میں چل بسا ہے۔ بوڑھا باپ ہر کسی سے اپنا دکھ کہنا چاہتا ہے مگر سواریوں کی اپنی اپنی دنیا ہے، اپنی ذات کی خود فریبی سے بن [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بنگلہ دیش کے پچاس برس اور مودی کا جیل جانا!

    ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی دو دن کے سفر پر آن و بان سے بنگلہ دیش کی آزادی کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے لیے ڈھاکہ پہنچے۔ دراصل کورونا وبا کی شروعات اور دنیا کی بگڑتی ہوئی حالت کے مد نطر ہندوستانی وزیر اعظم کو پچھلے سال سے بیرون ملک گھومنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔ ن [..]مزید پڑھیں

  • اسٹیٹ بنک: خود مختاری کی حد کیا ہو؟

    یادش بخیر  لگ بھگ ایک سال کے بعد  دوبارہ  آئی ایم ایف کا ذکر  چھڑا  ہے۔ حکومت کے بقول آئی ایم ایف کا گزشتہ سال معطل ہوا پروگرام شروع کرنے کی اشد ضرورت آن پڑی ہے۔ پروگرام  کی بحالی کے لئے جن اقدامات  پر پیشگی عمل  شرط  ٹھہرا  ان میں ایک اسٹیٹ بنک کی  مکمل � [..]مزید پڑھیں

  • کتنی برساتوں کے بعد !

    داخلی معاملات ہوں یا خارجی، وہ حقیقت میں ایسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں اور سطحی طور پر چیزوں کو دیکھنے والے بالعموم فریب کھا جاتے ہیں۔  یہی لوگ اس امر پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں کہ یوم پاکستان پر نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم کے نام خط میں پاکستانی عوام کو مبارک دی� [..]مزید پڑھیں

  • کیا کشمیری ماضی کو بھول جائیں؟

    اسلام آباد سٹریٹجیک ڈائیلاگ نامی کانفرنس میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب ’ماضی کو بھول کر مستقبل سنوارنے‘ کا مشورہ دیا تو بھارت اور پاکستان پر مشتمل تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی نے اس کا خیرمقدم کیا۔ بھارتی میڈیا نے تو پاکستان کی ’بدلتی حکمت عملی‘ [..]مزید پڑھیں

  • بے یقینی کے سائے اور امید کی کرنیں

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اس وقت خوف اور بے یقینی کے سائے میں امید کی ایک کرن ہے۔تقریباً چار دہائیوں کے جنگ اور بدامنی سے تنگ افغان عوام صدر اشرف غنی، حامد کرزئی، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور طالبان کے مذاکرات کار ملا عبدالغنی برادر کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ یہ سارے رہنما گفت [..]مزید پڑھیں

  • بگڑے ہوئے گھرکی درستی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی حالیہ پیش رفت نے جنگجوؤں اور امن پسندوں، دونوں حیران کردیا ہے۔ 2016 میں بھارت نے لائن آف کنٹرول کے اس طرف، پاکستانی علاقے میں مبینہ دھشت گردوں کے ٹھکانوں پر ”سرجیکل سٹرائیک“ کا دعویٰ کیاتھا۔ اس کے بعد سے بھارت نے لائن آف کنٹرول کو بہت جارح [..]مزید پڑھیں