تبصرے تجزئیے

  • دو سیاستدان، دو کہانیاں

    دو سیاستدان پاکستان کے دو مختلف چہروں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک کا نام پرویز رشید ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جس نے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے خلاف مزاحمت سے سیاست شروع کی۔ دوسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کے خلاف بھی پرویز رشید نے مزاحمت کی۔ تیسرے [..]مزید پڑھیں

  • انتخابی دھاندلی کا تدارک مگر کیسے؟

    ہم میں سے ہر شخص کی یہ تمنا ہے کہ ترقی یافتہ جمہوری ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی ایک مستحکم اور آئیڈیل جمہوری سسٹم مضبوطی سے قائم و دائم ہو جائے۔ لیکن یہاں سب سے بڑی خرابی سول ملٹری تعلقات میں غیر آئینی ہتھکنڈوں کے استعمال کی صورت شروع دن سے چلی آ رہی ہے۔ بارہا یوں م� [..]مزید پڑھیں

  • ملتان رنگ: پروفیسر انور جمال اور رول نمبر257

    ملتان کے ادبی منظرنامے میں کون کون سی ادبی تنظیمیں متحرک رہیں ۔ کون سے شاعر، ادیب اور نقاد سرگرمی کے ساتھ ماضی کی ادبی تقریبات ،تنقیدی اجلاسوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے رہے۔ یہ موضوع آج ہمارے لیے بے شک اہم نہ ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی یہ تقریبات آنے والے لوگوں کے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیاسی تلخیاں کم کریں

    سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد باقی ماندہ ملک میں سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر تھی جب ذوالفقار علی بھٹو نے 31دسمبر 1971کو ملک کے پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر حلف اٹھایا۔ کیونکہ ملک بے آئین تھا۔ مغربی پاکستان کی حزبِ اختلاف کی قیادت نالاں تھی اور تلخیاں اپنے عروج [..]مزید پڑھیں

  • ایوانِ بالا کا الیکشن اور ایک سینیٹر کی باتیں

    سینیٹ آف پاکستان کو ایوان بالا بھی کہتے ہیں ۔  ایک پارلیمانی نظام میں سینیٹ سے بڑا اور معتبر کوئی ادارہ نہیں ہوتا۔ آزاد دائرہ المعارف کے مطابق اس ایوان کے قیام کی بنیادی وجہ تمام وفاقی اکائیوں اور طاقتوں کو ایک جگہ پر نمائندگی دینا ہے۔  ایوانِ زیریں یا قومی اسمبلی میں م [..]مزید پڑھیں

  • دھاندلی کی آپ بیتی

    میں دھاندلی ہوں، میں انتخابات کے ماتھے کا کلنک ہوں۔ میں زور آوروں اور طاقتوروں کی باندی ہوں اور کمزوروں کے خلاف استعمال ہوتی ہوں۔ میں ہر اس الیکشن میں حملہ آور ہوتی ہوں جس میں انتظامیہ کمزور، حکمران بےحس اور جانبدار ہوں اور جہاں کا ایک فریق طاقت کے نشے میں چُور ہو۔ میرا سہا [..]مزید پڑھیں

  • رہبردکھوں سے نجات کا رستہ دکھا گیا

    پتہ نہیں پہلی ملاقات رہبر سے کب ہوئی تھی، یہ تو اب اضافی سی بات ہے ۔ جن کے ساتھ پہلی ملاقات یاد نہ رہے، وہ یقینی طور پر ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہمارا تعلق اتنا پرانا ہوتا ہے کہ جیسے وہ ہمیشہ سے ساتھ ہوں ۔ رہبر صمدانی بھی ایسے ہی تھے ۔ ہنستے مسکراتے ، جملے بازی کرتے ، طنز ک� [..]مزید پڑھیں

  • اردو: ہماری قومی اور تہذیبی شناخت کی علامت

    یہ چالیس افراد پر مشتمل سیاحوں کا ایک قافلہ تھا جس میں 14 مختلف ملکوں کے لڑکے، لڑکیاں اور مرد و خواتین ایک دوسرے کے ہم سفر ‏تھے۔ اس قافلے کو ایک آرام دہ کوچ کے ذریعے لندن سے پیرس پہنچنا تھا۔ کوچ میں سفر کے آغاز پر نوجوان ٹورسٹ گائیڈ یعنی سیاحتی رہنما نے تمام ‏مسافروں کا تع [..]مزید پڑھیں