تبصرے تجزئیے

  • دشواریاں،ذمہ داریاں اور اللہ کی مرضی

    فروری 2020میں برطانیہ میں کورونا وائرس کا چرچا شروع ہوا۔اور دیکھتے دیکھتے کورونا وائرس نے برطانیہ کے تقریباً سب علاقوں میں موت کا جال بچھا دیا۔ اور مارچ آیا تو برطانیہ لاک ڈاؤن کی میں پوری طرح قید ہوگیا۔  ہر طرف  خوف کا اثر دکھنے لگا۔ ٹیلی ویژن پر روزانہ بڑھتی ہوئی موت کی � [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت، عدالت اور پیسہ

    سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخاب پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران  ایک فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’اگر ملک میں   جمہوریت برقرار رہتی تو پھر  سیاست  میں یوں پیسہ نہ چلتا‘۔   ریفرنس پر کارروائی کے  دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اوپن بیلیٹ کے حق میں د [..]مزید پڑھیں

  • شو آف ہینڈ ، شفافیت یا کچھ اور؟

    حکومت قانونی اور سیاسی محاذ پر شکست کھانے کے باوجود بضد ہے کہ سینیٹ کے اگلے ماہ ہونے والے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں۔ جہاں تک اس سلسلے میں آئین میں ترمیم کا تعلق ہے وہ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کی مطلوبہ عددی اکثریت نہ ہونے کی بنا پرناممکن ہے۔ نہ جانے کیوں خان صاحب اس ر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • قوم سے معافی مانگ کر جیو

    نوعمری کی یادیں بڑی انمٹ ہوتی ہیں۔ درویش، مذہبی جنون سے سرشار دیوبندیت کے بارڈر کو کراس کرتے ہوئے ریاستِ مودودیت میں داخل ہو رہا تھا۔ پوری طرح فکر مودودی میں ڈوب کر ہر چیز کو اسلامی و غیر اسلامی کے چشموں سے دیکھتا اور جھانکتا۔ مولانا صاحب نے اپنے مخصوص نظریہ حیات کے تحت مغرب [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی برآمدات کے لیے مشکل وقت

    ابھی تو خوشی کے شادیانوں کی گونج تھمی نہیں اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ خوشی، شرمندگی میں بدلنے والی ہے۔ ایک طویل عرصے سے حکومت کی جانب سے ہمیں یہ کہانی سنائی جارہی تھی کہ دسمبر کے مہینے میں برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کے حمایتی یہ کہہ رہے تھے کہ پچھلے کئی سالوں سے اتنا [..]مزید پڑھیں

  • چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

    اگر آپ نے 50 سال سے زیادہ بغیر کسی وقفے کے بلا شرکت غیر پورے ملک پر حکمرانی کی ہو تو عادت اتنی آسانی سے نہیں بدلتی۔ آپ کے قابو میں ملک کے تمام وسائل و ذرائع ہوں، آپ جو چاہیں قانون بنائیں، آپ جسے چاہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیں یا زندگی سے محروم کر دیں، آپ جس کی جائیداد پر قبضہ کرن [..]مزید پڑھیں

  • محمد علی سدپارہ بہادر نہیں تھا

    راکھیوٹ پل کے کنارے ایک کھنڈر نما عمارت کے ویران کمرے میں ٹارچ کی دم توڑتی بیٹری کی آخری لو ٹمٹماتی تھی اور خاموشی میں سندھ سے ملتے گندھک بھرے پانی کی ایک نامانوس بو سرسراتی تھی۔ اس بیچ  ہم صبح کے انتظار میں اپنے سلیپنگ بیگز میں ٹھٹھرتے تھے۔ یہ اس وقت کا قصہ ہے جب فیری میڈوز [..]مزید پڑھیں

  • ایک فلم ضیا محی الدین پر

    ہم یہ تو جا نتے ہیں کہ ضیا محی الدین ہر سال دسمبر کی آ خری شام کو لاہور کے علی آ ڈیٹوریم میں اپنے ایجاد کردہ فن ’پڑھنت‘ کا مظا ہرہ کرتے ہیں اور یہ بھی جا نتے ہیں کہ یہ پڑھنت اتنی مقبول ہو چکی ہے کہ پاکستان میں ادب و فن کے جو بھی جشن منائے جا تے ہیں وہ ضیا محی الدین کی اس پڑھنت [..]مزید پڑھیں