اداریہ

  • امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی  اسلام آباد میں چیف آف  ڈیفنس  فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کے بعد عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں۔   وہ  اس دورے میں روس جانے  کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تاہم پاکستانی حکام کا  کہنا ہے کہ اتوا [..]مزید پڑھیں

  • ایران امریکہ مذاکرات : برف ابھی پگھلی نہیں

    ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کی اطلاع سامنے آنے  کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب تہران نے   واشنگٹن  کے ساتھ بات چیت کا  قصد کرلیا ہے اور  پاکستان  میں باہمی مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگا۔  اس دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لویٹ نے تصدیق کی کہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع

    صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے کل رات ایران کے خلاف جنگ بندی میں توسیع کے  چند گھنٹے بعد ہی مذاکرات کے لیے نئی ٹائم  لائن دینی شروع کردی ہے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت  آئیندہ  36 سے  72 گھنٹے کے اندر ممکن ہے۔  گزشتہ رات انہوں نے  وزیر اعظم  شہباز شریف اور فی� [..]مزید پڑھیں

  • امن مذاکرات میں افسوسناک تعطل

    شدید بیانات، الزام تراشی اور ایران کی طرف سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد  جانے  سے گریز کی وجہ سے  نائب صدر  جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کی اسلام آباد  روانگی  آج دوبارہ ملتوی کردی گئی۔ اس سے پہلے وینس اور امریکی وفد کل صبح روانہ ہونے والا تھا لیکن ایران کی طر� [..]مزید پڑھیں

  • امن معاہدہ کی طرف بڑھتے ہوئے فریقین کی لاچاری

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی طرف سے گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ایک دوسرے پر الزام تراشی اور زبانی گولہ باری سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ فریقین حتمی معاہدہ سے پہلے اپنے  اپنے لوگوں کے سامنے ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جس  میں بعد از وقت دوعویٰ کیا جاسکے کہ جنگ انہ [..]مزید پڑھیں

  • امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں

    ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے  درمیان  امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج اور ایرانی قیادت  کے درمیان فیصلہ سازی میں ہم آہنگی  نہ ہونےکی وجہ سے  آخری مرحلے تک کوئی حتمی [..]مزید پڑھیں