نگران وزیر اعظم کتنی دیر تک اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 31 / اکتوبر / 2023
ملک میں انتخابات کے حوالے سے پریشانی اور بے چینی پائی جاتی ہے تاہم انتخابات جیسے اہم معاملہ کو سیاسی رسہ کشی کا سبب بنا کر سیاسی پارٹیاں اور نگران حکومت اس بے یقینی میں اضافہ کررہی ہے۔ اس حوالے سے آج لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا یہ فرمان تشویشناک ہے کہ ’انتخابات کروانا ہی پورا آئین نہیں، اس کے دوسرے پہلو بھی ہیں‘۔
آئین پاکستان جمہوریت کو نظام حکومت کے طور پر تجویز کرتا ہے۔ اس لیے جو عناصر یا حکومت انتخابات کو کم اہم یا غیر ضروری ہونے کا تاثر دینا چاہتی ہے ، وہ آئین کی مبادیا ت سے نابلد ہونے کا ثبوت دے رہی ہے۔ انوار الحق کاکڑ نے چونکہ انتخابات کو نظر انداز کرکے دیگر آئینی معاملات طے کرنے کی تفصیلات پر روشنی نہیں ڈالی ، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ نگران وزیر اعظم نے صحافیوں کے سوالوں سے پریشان ہوکر جان چھڑانے کے لیے یہ بیان دیا ہے یا وہ واقعی انتخابات کے بارے میں غیر سنجیدیدہ رویہ رکھتے ہیں۔ بادی النظر میں ان کا بیان گمراہ کن اور ملک میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے ان شبہات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ موجود نگران حکومت انتخابات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے اور طاقت کے ایوانوں میں کہیں نہ کہیں ایسے عبوری حکومتی نظام کو توسیع دینے کی خواہش پالی جارہی ہے جو چند ماہ کی بجائے چند سال تک ملکی اقتدار پر قابض رہے تاکہ اسٹبلشمنٹ ’بعض اہم معاملات ‘ کو اپنی مرضی کے مطابق طے کرسکے۔
الیکشن کمیشن کے اعلانات اور گزشتہ روز لاہور ہی میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی اس یقین دہانی کے بعد کہ الیکشن کمیشن ’آزادانہ، منصفانہ انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کیلئے تیار ہے‘ سے یہ امید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ ملک میں انتخابات کے ساتھ مزید کھلواڑ نہیں کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن اپنے اعلان کے مطابق جنوری کے آخری ہفتہ میں انتخابات منعقد کروانے کا حتمی شیڈول کا جاری کردے گا۔ البتہ آج نگران وزیر اعظم نے انتخابات کی بات کو ضمنی اور کم اہم قرار دیاہے۔ یہ بیان ایک نگران وزیر اعظم کے مینڈیٹ سے ماورا اور کسی سیاسی لیڈر کے شایان شان نہیں ۔ ایک نگران سیٹ اپ کے سربراہ کے طور پر انوار الحق کاکڑ سے غیر جانبداری و بردباری کی توقع کی جاتی ہے۔ ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عوام کی بے یقینی میں اضافہ کرنے کی بجائے، اسے کم کرنے کی کوشش کریں۔ صرف یہ بیان دینے سے کہ الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے یا یہ کہ نگران حکومت انتخابات کے لیے ہمہ قسم تعاون کرنے پر تیار ہے، شبہات و قیاس آرائیوں کے بادل چھٹ نہیں سکتے۔
یہ صورت حال اس لحاظ سے بھی تشویشناک صورت اختیار کرلیتی ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اس سال جنوری سے نگران حکومتیں کام کررہی ہیں۔ یہ حکومتیں 90 دن کے اندر دونوں صوبوں میں انتخابات منعقد کروانے کے لیے قائم ہوئی تھیں تاہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود اس کا اہتمام نہیں کیا جاسکا۔ شہباز شریف کی حکومت نے ملک میں عام انتخابات ایک ہی وقت پر منعقد کروانے کے اصول کو عذر بنا کر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات روکنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن پاکستان نے بھی خود مختار ادارہ ہونے کا ثبوت دینے کی بجائے، انتخابات کے التوا کو ہی ضروری سمجھا اور تحریک انصاف اور سپریم کورٹ کی خواہش کو نظر انداز کیا گیا۔ا س حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر ضرور سوال اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن اس فیصلہ میں سقم کی بنیاد پر اسے مسترد کرنے کا رویہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ملک میں آئینی انتظام کی بات کرنے والے عناصر اگر ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کے فیصلوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے تو اس سے بے یقینی میں اضافہ ہی ہوگا۔
ان دونوں صوبوں میں بروقت انتخابات نہ کروانے ہی کی وجہ سے اس وقت تک وہاں پر قائم کی گئی نگران حکومتیں کسی آئینی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز کے بغیر کام کررہی ہیں۔ متعدد دیگر مسائل کے ہجوم میں ان حکومتوں کے جواز کے بارے میں نہ تو سیاسی مکالمہ دیکھنے میں آیا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ میں اس معاملہ کو اٹھایا گیا ہے۔ حالانکہ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن اگر کسی وجہ سے ان دونوں صوبوں میں انتخابات منعقد کروانے سے قاصر تھے تو انہیں سپریم کورٹ سے نگران حکومتوں کے بارے میں رہنمائی لینی چاہئے تھی۔ قانون و آئین کے طالب علموں کے لیے یہ سوال بدستور معمہ بنا رہے گا کہ جو حکومتیں انتخابات کروانے کے لیے ایک محدود مدت کے لیے قائم کی گئی تھیں انہیں کیوں کر ایک سال یا اس سے بھی زیادہ مدت تک کے لیے قبول کیا جاسکتا ہے؟ آج نہیں تو کل اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔ بلکہ ملکی سیاسی تاریخ کے اس تلخ اور افسوسنالک تجربہ کی روشنی میں مستقبل کی پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کے ذریعے اس سوال کو حمتی طور سے طے کرنا چاہئے تاکہ آئیندہ عوام پر طویل عرصہ کے لیے غیر منتخب حکومتوں کو مسلط نہ کیا جاسکے۔
اس پس منظر میں نگران وزیر اعظم کی طرف سے انتخابات کی اہمیت و ضرورت کو کم کرنے کی کوشش خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔ بظاہر معصومانہ بلکہ بچگانہ دکھائی دینے والے جواب کو پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں کے تناظر میں دیکھنا چاہئےکہ چند ہفتوں کے لئے قائم ہونے والی حکومتیں گیارھویں مہینے میں داخل ہورہی ہیں۔ انہیں ایسے اہم معاملات کی فیصلہ سازی میں بھی شامل کیا جارہا ہے جو صریحاً منتخب حکومتوں کا استحقاق ہے۔ اس کی بنیاد شہباز حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج منظور کروانے کے عمل سے رکھی تھی ۔ اس کونسل میں چاروں صوبوں کی حکومتیں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے کی مجاز ہوتی ہیں لیکن پنجاب اوور خیبر پختون خوا کی غیر منتخب نگران حکومتوں کو اس اہم فیصلہ سازی میں شامل کیا گیا۔ حالانکہ مردم شماری کے نتائج منظور کرنے ہی کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کا کام شروع کرنا پڑا اور اس عذر پر انتخابات ملتوی کیے گیے۔
اس پس منظر میں دو اہم نکات قابل غور ہیں۔ ایک یہ کہ سابق وفاقی حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کرنے پر اصرار کیا جس سے ملک میں انتخابات کا عمل بے یقینی کا شکار ہوسکتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی شہباز شریف یہ دعوے بھی کرتے رہے کہ وہ اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری کرکے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوا دیں گے۔ البتہ اس دوران یہ اہتمام کرلیا گیا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے ایسا فیصلہ کروالیا جایے جسے الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کرسکے۔ اس کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی بھی شہباز شریف کی حکومت کا حصہ تھی۔ گویا یہ پارٹی بھی اصولی طور سے اس بات پر متفق تھی کہ مردم شماری کے نتائج منظور کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کرلیا جائے۔ اسی لیے سندھ سے پیپلز پارٹی کی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل میں اس فیصلہ کی توثیق کی تھی حالانکہ وہ اس اعلان کو رکوانے کا اہتمام بھی کرسکتی تھی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے تھوڑی دیر بعد سے ہی مقررہ 90 دن میں انتخابات کروانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ حالانکہ وہ ان فیصلوں میں بھی شامل تھی جن کی وجہ سے انتخابات کے التوا کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تاہم اب پیپلز پارٹی کی منشا ہے کہ اس کی ساری ذمہ داری شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) پر ڈال دی جائے۔ جمہوری نظام میں ذمہ داری کا تعین اس طریقے سے نہیں کیا جاسکتا۔ مخلوط حکومت میں شامل سب سیاسی سیاسی پارٹیاں یا گروہ مشترکہ طور سے تمام فیصلوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی پہلے انتخابات کے التوا کا سبب بننے میں شہباز شریف کا دست و بازو بنی، پھر 90دن میں انتخابات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ اگر اس پر عمل نہ ہؤا تو پیپلز پارٹی نہ جانے کون سا سیاسی طوفان برپا کردے گی۔ اب بلاول بھٹو زرداری 90 دن میں انتخابات کے مطالبے کو اس حد تک لے آئے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔ لیکن الیکشن کمیشن اس مطالبے پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے بظاہر خود کو انتخابات کی حامی جمہوری قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن درحقیقت وہ خود انتخابات کے غیر ضروری التوا کا باعث بھی بنی ہے۔
جب پوری قوم بے چینی سے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا انتظار کررہی ہے تو نگران وزیر اعظم نے انتخابات ہی کو آئین پاکستان کی ’کم تر ضرورت‘ قرار دے کر ملک میں جمہوری نظام کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں ایک افسوسناک مباحثہ شروع کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی ہے۔ دو صوبوں میں نگران حکومتوں کی مدت میں غیر ضروری توسیع، اہم فیصلوں میں ان کی شرکت اور الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات ملتوی کرنے کے لیے عذر خواہی سے اب یہ شبہ پیدا ہونا لازم ہے کہ کیا موجودہ نگران حکومت ملک کو غیر جمہوری نظام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہی ہے؟
یہ ایک علیحدہ سوال ہے کہ ایسی کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی ہے لیکن ایسی کاوشوں سے سیاسی بحران گہرا ہونے اور عوام کی بے چینی میں اضافہ کا امکان بہر حال موجود ہے۔ پاکستان میں شخصی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی خواہ اسے کوئی بھی نام دیا جائے ۔ بہتر ہوگا کہ نگران حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے اور چیف الیکشن کمشنر محض یقین دہانیاں کروانے کی بجائے فوری طور سے انتخابات کا حتمی شیڈول جاری کریں۔ یا پھر انوازرالحق کاکڑ یہ بتادیں کہ وہ کتنی مدت تک ملک کا وزیر اعظم رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟